17 فروری 2013 - 20:30

میرے جنم سے پہلے ہی لوگوں نے یہ دونوں چراغ بجھا دیئے ہیں۔ یہ سوچتے سوچتے میری دونوں آنکھوں سے دو آنسو ٹپکے اور ان کی روشنی میں ۔۔۔ میں نے دشتِ تجرید میں وادی حرا کی بلندیوں سے جھک کر ایک مرتبہ جنت البقیع کی شکستہ قبروں پر نگاہ ڈالی۔۔۔ میری آنکھیں نم ہوگئیں اور میرے حلق میں جذبات کا سورج ڈوب گیا۔ میں نے کہا بی بی! آپ کے بابا نے ان وحشیوں کے درمیان آپ کی پرورش کی۔ آپ کے بابا (ص) آپ کے احترام میں اُٹھ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے، آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے، یہ میری بیٹی، یہ میری فاطمہ (س) میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔۔۔ لیکن عرب کے یہ ظالم نہ اپنی بیٹیوں کے تقدس کو سمجھے اور ناں ہی انہوں نے آپ کا مزار گرانے سے کچھ شرم کی۔

آج سے چودہ سو برس پہلے بھی اکثریت نے اقلیت کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ تاریخ کے روشندان سے جھانکئے اور دیکھئے کہ "قُّلہ کوہ" پر ایک شخص کے ہاتھوں میں دو چراغ جل رہیں ہیں اور بہت سارے لوگ ان چراغوں کو گل کرنے کے لیے "اجماع" کئے بیٹھے ہیں۔ انہیں خطرہ ہے کہ اگر رات کی تاریکی میں یہ دو چراغ جل اُٹھے تو اندھیرے کی عادی ان کی آنکھیں چندھیا جائیں گی اور اندھیرے میں چھپے ہوئے ان کے کرتوت عیاں ہو جائیں گے۔ مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے ان لوگوں نے ایک بلند و بالا پہاڑ کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ان میں سے کسی کے ہاتھ میں تلوار ہے، کسی کے پاس نیزہ ہے، کسی نے پتھر اُٹھایا ہوا ہے اور کوئی دشنام طرازی میں مصروف ہے۔ ایک شب انہوں نے ان چراغوں کو گل کرنے کا حلف اُٹھایا اور مشعل بردار کو تہہ تیغ کرنے کی قسم کھائی۔ مشعل بردار اور اس کے مٹھی بر حامیوں نے اپنے ارد گرد غصے سے ہانپتے ہوئے انسان نما جانوروں کو روشنی اور نور کے ان گنت فوائد بتائے، لیکن وہ تہذیب و تمدن سے عاری مخلوق کسی کی بات کہاں سمجھتی تھی۔ وہ جو صحراوں میں اونٹوں کی مہار کھینچتے کھینچتے اپنی زندگیاں گزار دیتے تھے، جن کے پیٹ صرف شراب اور مردار سے ہی بھرتے تھے، جو کسی جوہڑ کے گندے پانی پر صدیوں تک لڑتے رہتے تھے، جب ان کے درمیان تلوار کھنچ جاتی تھی تو آن واحد میں کشتوں کے پشتے لگا دیتے تھے، جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی تھی تو اس کے چہرے کا رنگ سیاہ پڑ جاتا تھا، ان میں سے بعض اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے اور بعض شرم کے مارے کسی کے منہ نہیں لگتے تھے۔۔۔ یہ عقل و منطق سے بے بہرہ، یہ جاہل اجڈ اور گنوار، یہ وحشی، سنگدل اور مکّے کے بدو کیا جانتے کہ نور اور روشنی کسے کہتے ہیں! انہیں کیا پتہ کہ دین و مذہب، تجزیہ و تحلیل اور تبصرہ کیا ہوتا ہے۔ یہ اپنے ہی خول میں جینے والی مخلوق جو اپنے آپ کو عقل ِ کل سمجھتی تھی، اسے کیا معلوم کہ کوہِ حرا کی بلندی مکے کی پستیوں سے کیا کہہ رہی ہے!؟ جب یہ نہیں سمجھے اور بالکل نہیں سمجھے۔۔۔ تو ایک شب مکے کی خون آشام گلیوں کے درمیان "نور اور روشنی" کی صدا دینے والا "مشعل بردار" اچانک غائب ہوگیا اور اگلے ہی چند دنوں میں اس نے یثرب کی وادی سے خورشید کی مانند طلوع کیا۔ لوگ اطراف عالم سے جوق در جوق اس کی بزم میں آنے لگے اور اس کے دونوں چراغوں سے اپنے اپنے چراغ جلا کر لے جانے لگے۔ یوں دنیا بھر میں چراغ تقسیم ہونے لگے اور روشنی پھیلنے لگی۔ پھر دنوں پر دن اور سالوں پر سال گزرنے لگے۔ میں نے اس واقعے کے چودہ سو سال بعد آنکھ کھولی اور لوگوں سے پوچھا کہ اس مشعل برادر کے ہاتھوں میں وہ دو چراغ کونسے تھے۔ مجھے مغرب کے مستشرق، مشرق کے مومن، یمن کے مقداد(ر)، فارس کے سلمان (ر)، مدینے کے ایوب انصاری (ر)، قرن کے اویس (ر) اور حبش کے بلال (ر) نے یہی جواب دیا کہ وہ دو چراغ ثقلِ اکبر اور ثقل ِ اصغر تھے۔ میں نے پوچھا ثقلِ اکبر اور ثقل اصغر کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ثقل ِ اکبر سے مراد قرآن ہے اور ثقل اصغر سے مراد آلِ پیغمبر (ع) ہے۔ میں نے پوچھا یہ دونوں چراغ آندھیوں کی زد میں کیوں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اس لیے کہ ایک چراغ یعنی ثقلِ اکبر کو صفین میں نیزوں پر جبکہ دوسرے چراغ یعنی ثقلِ اصغر کو کربلا میں نیزوں پر اچھالا گیا تھا ۔۔۔میں نے پوچھا اب کیا ہوگا، انہوں نے کہا اب یہ دونوں چراغ میدانِ محشر میں فریاد کریں گے۔ میں نے پوچھا۔۔۔ لوگوں نے ایسا کیوں کیا؟ مجھے جواب ملا کہ یہ مکے کے بدو، یہ شراب اور مردار کے رسیا، یہ تہذیب و تمدن سے عاری مخلوق کیا جانے ثقل اکبر کیا ہے اور ثقل اصغر کیا ہے!؟ میرے جنم سے پہلے ہی لوگوں نے یہ دونوں چراغ بجھا دیئے ہیں۔ یہ سوچتے سوچتے میری دونوں آنکھوں سے دو آنسو ٹپکے اور ان کی روشنی میں ۔۔۔ میں نے دشتِ تجرید میں وادی حرا کی بلندیوں سے جھک کر ایک مرتبہ جنت البقیع کی شکستہ قبروں پر نگاہ ڈالی۔۔۔ میری آنکھیں نم ہوگئیں اور میرے حلق میں جذبات کا سورج ڈوب گیا۔ میں نے کہا بی بی! آپ کے بابا نے ان وحشیوں کے درمیان آپ کی پرورش کی۔ آپ کے بابا (ص) آپ کے احترام میں اُٹھ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے، آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے، یہ میری بیٹی، یہ میری فاطمہ (س) میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔۔۔ لیکن عرب کے یہ ظالم نہ اپنی بیٹیوں کے تقدس کو سمجھے اور ناں ہی انہوں نے آپ کا مزار گرانے سے کچھ شرم کی۔مکے کے یہ بدو کیا جانیں !!! بیٹی کیا ہے۔۔۔ جگر کا ٹکڑا کیا ہے۔۔۔؟ میں نے جب اللہ کے آخری رسول(ص) کی اکلوتی بیٹی "فاطمہ(س)" کی قبر پر پڑی ہوئی خشک مٹی پر نگاہ ڈالی ۔۔۔ تو مشتِ خاک کو چوم کر کہا بی بی! بی بی! میں آپ کا خادم، میں آپ کا غلام چودہ سو برس کے بعد سہی اشکوں کی شمع لئے جنت البقیع کے دروازے پر نہیں کوئٹہ کی کربلا میں بادِ مخالف کے مقابل کھڑا ہوں آپ کے دشمن آپ کے بغض میں کوئٹے کے گلی کوچوں میں ہر روز لاشیں گراتے ہیں چراغ بجھاتے ہیں اور میں آپ کی محبت میں ہر روز اشکوں سے خونِ دل سے کاغذ و قلم سے ہزار ہزار چراغ جلاتا ہوں جگنو اڑاتا ہوں نادان۔۔۔ چودہ سو برسوں میں اتنا بھی نہیں سمجھے کہ چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا۔۔۔...............242